نئی دہلی،11/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) کشمیر میں 159 دنوں سے انٹرنیٹ بند اورمختلف علاقوں میں دفعہ 144 کے نفاذ پر سپریم کورٹ نے جمعہ کو انتہائی سخت لہجہ میں مودی کی قیادت والی بی جے پی سرکار کو جھٹکا دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ وقت میں انٹرنیٹ عوام کا بنیادی حق ہے - انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے آرٹیکل19کے تحت بنیادی حق قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ کو اس مرکز کے زیرِ انتظام ریاست میں عائد پابندیوں کا ایک ہفتے کے اندر جائزہ لینے کے احکامات صادر کئے -جسٹس این وی رمن، جسٹس سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوائی کی بنچ نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل370کی زیادہ تر شِقوں اور آرٹیکل35اے کو منسوخ کئے جانے کے بعد انٹرنیٹ سروس کی معطلی پر فوری طور پر جائزہ لینے کے احکامات صادر کئے - بنچ کی جانب سے جسٹس رمن نے‘کشمیر ٹائمز’کی ایڈیٹر انورادھا بھسین اور کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کی عرضیوں پر فیصلہ سناتے ہوئے جموں و کشمیر میں عائد کی گئی دیگر تمام پابندیوں کا ایک ہفتے کے اندر جائزہ لینے کے احکامات صادر کئے -عدالت نے سرکاری اور مقامی بلدیاتی اداروں کی ان ویب سائٹوں کو بحال کرنے کی ہدایت جاری کی جہاں انٹرنیٹ کے غلط استعمال کا خدشہ کم ہے - عدالت عظمیٰ نے اپنے احکامات میں اسپتال اور تعلیمی اداروں سمیت ضروری خدمات فراہم کرنے والے تمام اداروں کی انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی ہدایت دی - بنچ نے اپنے احکامات میں کہا کہ انٹرنیٹ پر غیر معینہ مدت تک پابندی عائد کرنا ٹیلی کمیونی کیشن ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہے - انہوں نے انٹرنیٹ کی دستیابی کو اظہار رائے کی آزادی کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر لمبے عرصے تک پابندی نہیں لگائی جا سکتی - عدالت نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ ان تمام احکامات کو منظر عام پر لائے، جن کے تحت کریمینل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ144نافذ گئی تھی، تاکہ لوگ اس کے خلاف کورٹ جا سکیں -سپریم کورٹ نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس کی غیر معینہ مدت تک معطلی نا قابل قبول ہے -سی آر پی سی کی دفعہ144کے تحت بار بار احکامات جاری کرنے سے اقتدار کا غلط استعمال ہوگا -عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو پابندیوں کے تمام احکامات کو شائع کرنا چاہئے اور کم پابندیوں کے اقدامات کو اپنانے کے لئے تناسب کے اصولوں پر عمل کرنا چاہئے -عدالت نے کہا کہ پابندیوں کے احکامات کے پیچھے کے سیاسی پہلو سے کوئی تعلق نہیں ہے - اس کی محدود فکر سکیورٹی اور لوگوں کی آزادی کے سلسلے میں ایک توازن تلاش کرنا ہے - جسٹس رمن نے کہاکہ ہم صرف یہ یقینی بنانے کے لئے یہاں ہیں کہ شہریوں کو ان کے حقوق فراہم کئے جائیں - کشمیر میں بہت تشدد ہوا ہے - ہم سکیورٹی کے مسئلہ کے ساتھ انسانی حقوق اور آزادی میں توازن پیدا کرنے کی پوری کوشش کریں گے -عدالت عظمیٰ نے اس دوران جن اہم باتوں پر زور دیا ان میں آئین کے آرٹیکل(19(1)اے) کے تحت بولنے اور اظہار رائے کی آزادی میں انٹرنیٹ کا حق شامل ہے - عدالت نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندیوں پر آرٹیکل19(2)کے تحت تناسب کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے- غیر معینہ مدت کے لئے انٹرنیٹ کی معطلی منظور نہیں ہے -یہ صرف ایک مناسب مدت کے لئے ہو سکتا ہے اور وقت وقت پر اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے -عدالت نے گزشتہ27نومبر کو متعلقہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا-
سپریم کورٹ کے بڑے تبصرے
٭ انٹرنیٹ کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند نہیں کیا جاسکتا
٭ عوامی فلاحی وبہبود کے لئے پابندیوں کے احکامات ہونے چاہئیں
٭ اسکولوں کالجوں اور اسپتالوں میں انٹرنیٹ فوری بحال کیا جائے
٭ دفعہ 144 کو حکومت مخالف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا
٭ غیرمعینہ مدت تک پابندی عائد کرنا ٹیلی کمیونی کیشن ضابطوں کی بھی خلاف ورزی
٭ انٹرنیٹ کے ذریعہ اظہار رائے کی آزادی آئین کی دفعہ 19(1) (a) کے تحت بنیادی حق ہے
٭ دفعہ 144 کا نفاذ صرف ہنگامی صورتحال پر کرنا چاہئے
٭ کشمیریوں کو تحفظ اور آزادی ان کا بنیادی حق ہے
٭ تحفظ وسلامتی کے ساتھ انسانی حقوق اور آزادی کے مابین توازن قائم کرنا ضروری
٭ آزادیئ صحافت وتقریر جمہوری نظام کا ایک لازمی حصہ
٭ جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلات پر پابندی کا اثر آزادیئ صحافت وآزادیئ اظہار رائے پر پڑا ہے
٭ ملک کے تمام شہریوں کے لئے مساوی حقوق اور سلامتی کے فیصلہ کلی عدالت ذمہ داری